’میرا پاکستان میرا گھر‘ کے تحت فنانسنگ کی درخواستیں 200 ارب روپے سے تجاوز کرگئیں بینک منظوری کی رفتار بڑھائیں جو78ارب روپے تک پہنچ چکی ہے: گورنر اسٹیٹ بینک

بینک دولت پاکستان کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے’میرا پاکستان میرا گھر‘ اسکیم کے تحت پہلی بار گھر کے مالک بننے والوں کے لیے کم لاگت مکانات کے قرضوں کو تقویت دینے میں بینکاری صنعت کی پیش رفت کو سراہا ہے۔ 18 اکتوبر2021ء تک کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق بینکوں کو 200 ارب روپ سے زائد کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ بینکوں نے 78 ارب روپے کی فنانسنگ کی منظوری دی ہے جس میں سے 18 ارب روپے تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ اس کے ساتھ گورنر نے منظوریوں کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ فنانسنگ کی درخواستوں کے مطابق ہو اور اس امر کو یقینی بنایا جاسکے کہ پروسیسنگ کے وقت کی وجہ سے لوگوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ متعلقہ فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے پاکستانیوں کا اپنے سر پر اپنی چھت کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوسکے گا۔
اب تک کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے فریقوں سے کہا کہ ’میرا پاکستان میرا گھر ‘کے نام سے مشہور مکانات کے قرضوں سے متعلق حکومت کی مارک اپ زراعانت اسکیم تک عوام کے بڑے حصے کی رسائی بڑھائیں۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ برس جب’ میرا پاکستان میرا گھر ‘کے سفر کا آغاز ہوا تھا اس وقت کم لاگت مکانات کے قرضے تقریباً نہ ہونے کے برابر تھے کیونکہ کمرشل بینکوں نے اس شعبے کے داخلی خطرات کے خوف سے کبھی ان میں اضافے کی کوشش نہیں کی۔ تاہم ملک میں مکانات اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے مضبوط حکومتی اور خصوصاً این اے پی ایچ ڈی اے، اسٹیٹ بینک، بینکوں اور دیگر فریقوں کے عزم کا نتیجہ ہاؤسنگ اور تعمیرات کے قرضوں میں خاصے اضافے کی صورت میں نکلنا شروع ہو گیا ہے۔

ان کوششوں کو تیز کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے مکانات اور تعمیرات کے قرضوں کو فروغ دینے کے لیے سازگار ضوابطی ماحول فراہم کیا۔ نتیجتاً، آخر ستمبر2021ء تک بینکوں کے مکانات اور تعمیرات کے قرضے بڑھ کر305ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جبکہ گذشتہ برس آخر ستمبر تک یہ166ارب روپے کی سطح پر تھے، اور یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں139ارب روپے کے اضافے اور84فیصد سال بسال نمو کو ظاہر کرتے ہیں۔ درج ذیل چارٹ میں گذشتہ ایک برس کےدوران قرضوں کی نمو کو دکھایا گیا ہے۔
جولائی2020ء میں اسٹیٹ بینک نے کمرشل بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ مکانات اور تعمیرات کے شعبوں کے قرضوں کا حصہ21دسمبر2021ء تک بڑھا کر اپنے ملکی نجی شعبے کے قرضوں کے5فیصد تک لے جائیں۔ اس ضمن میں اعانت کے لیے بینکوں کے ساتھ انفرادی مشاورتی اجلاسوں کے بعد اسٹیٹ بینک نے انہیں سہ ماہی اہداف دیے جس کا نتیجہ مربوط کوششوں کی صورت میں نکلا۔ اس جز پر توجہ بڑھ گئی اور آخر ستمبر2021ء کو ختم ہونے والی سہ ماہی تک بینک مجموعی بنیادوں پر انہیں تفویض کردہ اہداف کا94فیصد حاصل کر چکے ہیں۔بینکوں نے30جون2021ء تک257ارب روپے کے قرضے فراہم کیے جبکہ جولائی تا ستمبر2021ء میں انہوں نے مکانات اور تعمیرات کے شعبوں کے قرضوں میں48ارب روپے کا اضافہ کیا ہے۔
مکاناتی اور تعمیراتی شعبوں کو قرضوں میں اضافہ اس بات کا عکاس ہے کہ بینکوں نے اپنی ادارہ جاتی سمت/ اسٹریٹجک فوکس مکانات اور تعمیرات کی ترقی کی طرف کر لیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں بینکوں نے اپنے سسٹمز اور طریقوں کو ازسرِ نو تشکیل دیا ہے، ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارمز کو اپ گریڈ کرنا اور جدید بنایا ہے، اور ترغیبات اور تربیت کے ذریعے اپنے اسٹاف میں جذبہ بیدار کیا ہے۔
ینکوں نے ایک مشترکہ کال سینٹر بھی بنایا ہے تاکہ ’میرا پاکستان میرا گھر‘ کے بارے میں عوام کے سوالات کا جواب دیا جا سکے جس کا گورنر اسٹیٹ بینک نے حال میں افتتاح کیا ہے۔ عوام کال سینٹر سے رابطے کے لیے 0-33-77-786-786 استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ کال سینٹر شکایات کے ازالے میں مدد دے گا اور ایسے عام افراد کی کی اعانت کرے گا جو ’میرا پاکستان میرا گھر‘ کے تحت قرضہ لینا چاہتے ہیں لیکن بینکوں کی شرائط پوری کرنے میں انہیں مشکلات ہو رہی ہیں۔ قبل ازیں اسٹیٹ بینک نے جنوری 2021ء میں ایک آن لائن طریقہ کار کا آغاز کیا تھا جو بہت آسان ہے۔ شکایات کے حل کا طریقہ کار آئی ٹی پر مبنی ایک پورٹل پر مشتمل ہے جس میں اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے اسٹاف کا ایک جامع نیٹ ورک معاونت کر رہا ہے جو درخواست دہندگان کو درپیش مشکلات مقررہ مدت کے اندر دور کرتا ہے اور شکایات کا ازالہ کرتا ہے، اور اس میں جواب دہی کا عنصر بھی شامل رکھا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے این اے پی ایچ ڈی اے، دیگر حکومتی ایجنسیوں، بینکوں اور فریقوں کے اشتراک سے کیے گئے دیگر اقدامات میں قرضے کا درخواست فارم سادہ اور یکساں بنانا، فیسلٹی آفر لیٹر کو یکساں بنانا، پروڈنشیل فریم ورک میں ترمیم، بلڈرز/ ڈیولپرز کے لیے رسک کے جائزے کا مقررہ معیار تشکیل دینا، انکم پراکسی ماڈل کی تشکیل اور قرضے کی دستاویزات کو یکساں بنانا۔

Bookmark the permalink.

Comments are closed.